بچے نےگھر میں کھیلتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فونز جلادیے
تصور کریں کہ اگر کوئی بچہ لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فونز کو کھیلتے ہوئے جلا دے تو والدین کیا کریں گے؟
یقین کرنا مشکل ہوگا مگر چین میں ایک بچے نےگھر میں کھیلتے ہوئے حادثاتی طور پر درجنوں موبائلز فونز کو جلا دیا مگر اس کے والد کا ردعمل انٹرنیٹ پر وائرل ہوگیا۔چین کے شہر شینزن سے تعلق رکھنے والے پینگ موبائل فون فروخت کرتے ہیں اور گھر کے اندر بھی انہوں نے متعدد ڈیوائسز کو رکھا ہوا ہے۔ان کا 5 سالہ بچہ گھر میں کھیل رہا تھا جب اس نے بجلی کے تار میں شارٹ سرکٹ کے شعلے دیکھے اور ان کو ایک رومال جلانے کے لیے استعمال کیا۔اس کے نتیجے میں آگ اس ورکشاپ میں بھی پھیل گئی جہاں موبائل فونز مووجد تھے اور 30 کے قریب ڈیوائسز تباہ ہوگئیں۔ان سب کی مالیت 2 لاکھ چینی یوآن (83 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) سے زائد تھیں اور ان کی انشورنس بھی نہیں ہوئی تھی۔بچے کو یہ فکر تھی کہ آگ قیلولہ کرنے والے والد تک نہ پہنچ جائے تو اس نے پینگ کے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور خود دوسرے کمرے میں چھپ گیا۔پینگ نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'میرے بیٹے نے مجھے نہیں جگایا بلکہ میرے لیے ائیر کنڈیشنر کو آن کر دیا، مگر اس وقت تک ورکشاپ اور ایک اور کمرہ آگ سے متاثر ہوچکا تھا'۔خوش قسمتی سے بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور آگ بجھنے کے بعد اس نے فرش کو صاف کرنےکی بھی کوشش کی۔جب پینگ کو اس کا علم ہوا تو بچے کو ڈانٹنے یا مارنے کے بجائے پرسکون انداز میں کہا کہ 'تم خوش ہو'، جس پر بچے نے ڈرتے ہوئے سرکو ہلایا۔اس کے بعد پینگ نے اس حادثے کو بچے کو سکھانےکے لیے استعمال کرتے ہوئےکہا کہ آگ سے کھیلنے والے خود جل جاتے ہیں تو ہمیشہ اس سے دور رہنا چاہیے۔پینگ نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے بیٹے نے ورکشاب میں موجود ان کے سگریٹوں کے پیکٹ کو بچا لیا تھا جبکہ نقصان کی تلافی کے لیے اپنا جیب خرچ دینےکی پیشکش بھی کی۔پینگ نےکہا کہ انہیں یاد ہےکہ وہ بچپن میں والدین کی ڈانٹ کے خیال سے خوفزدہ رہتے تھے اور ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ اپنے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔








فیس بک تبصرے
Facebook Comments Plugin Area