فیفا ورلڈکپ کا نیا فارمیٹ: کامیاب رہا یا ناکام؟
فیفا کے 48 ٹیموں پر مشتمل نئے ورلڈ کپ فارمیٹ نے گروپ مرحلے کے اختتام پر جہاں کئی نئی اور یادگار کہانیاں جنم دیں، وہیں اس کی افادیت اور مسابقت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں
نئے فارمیٹ کا سب سے بڑا فائدہ کیپ وردے کو ہوا، جس نے توقعات کے برعکس آخری 32 ٹیموں میں جگہ بنا کر یوراگوئے جیسی مضبوط ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیا۔ بحرِ اوقیانوس کے اس چھوٹے سے ملک نے اسپین سے ڈرا اور یوراگوئے کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد سعودی عرب کے خلاف اہم نتیجہ حاصل کرتے ہوئے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کی۔کیپ وردے کے 40 سالہ گول کیپر ووزنہا بھی ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی انفرادی کہانی بن کر سامنے آئے۔ اسپین کے خلاف شاندار گول کیپنگ کے بعد ان کے سوشل میڈیا فالوورز ہزاروں سے بڑھ کر کروڑوں تک جا پہنچے، جبکہ ان کی والدہ بھی بعد ازاں امریکہ پہنچ کر اپنے بیٹے کا میچ دیکھنے میں کامیاب ہوئیں۔نئے فارمیٹ کے باعث بوسنیا و ہرزیگوینا، کینیڈا، مصر، آئیوری کوسٹ، جنوبی افریقہ اور ڈی آر کانگو جیسی ٹیموں نے پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی، جبکہ افریقی ٹیموں نے غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 10 میں سے 9 ٹیموں کو آخری 32 میں پہنچا دیا۔دوسری جانب ایشیائی ٹیمیں توقعات پر پوری نہ اتر سکیں۔ نو ایشیائی ٹیموں میں سے صرف جاپان اور آسٹریلیا ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ سکیں، جبکہ کونکاکاف کی اضافی نمائندہ ٹیمیں بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکیں۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ گروپ مرحلہ بڑی ٹیموں کے لیے زیادہ چیلنجنگ ثابت نہیں ہوا۔ 12 ٹاپ سیڈ ٹیموں میں سے صرف پرتگال اور شریک میزبان کینیڈا اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل نہ کر سکے، جبکہ یوراگوئے کے سوا کوئی بڑی ٹیم غیرمتوقع طور پر باہر نہیں ہوئی۔نئے فارمیٹ میں تیسرے نمبر پر آنے والی بہترین ٹیموں کو بھی ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ ملنے سے کئی گروپس میں آخری میچوں کی اہمیت کم ہوگئی۔ بعض ٹیمیں میچ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی پوزیشن سے آگاہ تھیں، جس پر شفافیت اور مسابقت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔گھانا کے کوچ کارلوس کیروش نے بھی اس فارمیٹ کو "بے ہودہ اور عام" قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیسرے نمبر کی ٹیموں کو بھی اگلے مرحلے میں بھیجنے سے مقابلے کی شدت متاثر ہوئی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق گروپ مرحلے میں فی میچ اوسطاً 2.99 گول اسکور ہوئے، جو 1998 میں 32 ٹیموں کے فارمیٹ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ گول ہونے کی ایک وجہ کمزور اور مضبوط ٹیموں کے درمیان معیار کا واضح فرق بھی تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ 48 ٹیموں کے فارمیٹ نے کیپ وردے جیسی متاثرکن کہانیاں ضرور پیدا کیں، لیکن گروپ مرحلہ مجموعی طور پر حقیقی سنسنی اور غیر یقینی کیفیت سے محروم رہا۔ اب تمام نظریں ناک آؤٹ مرحلے پر مرکوز ہیں، جہاں ورلڈ کپ کا اصل امتحان اور اصل مقابلہ شروع ہوگا۔











فیس بک تبصرے
Facebook Comments Plugin Area