وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے ‘مونال ریسٹورنٹ‘ کو گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے مشہور مونال ریسٹورنٹ، لا مونتانا اور دیگر تجارتی مراکز کو مسمار کرنے کے سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
پیر کو وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں جائیداد کی ملکیت، لیز اور انتظامی امور سے متعلق تمام تنازعات کو واپس ماتحت عدالتوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ’امریکہ آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی بحری جہازوں (کارگو) پر فیس عائد کرے تاکہ اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے پر آنے والے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔‘فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں نے پیر کو اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ ’ایران کے بحری جہازوں کی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آبنائے ہُرمز کھلی ہے۔ ہم ’ایران کی بحری ناکہ بندی‘ دوبارہ نافذ کر رہے ہیں۔ان کے مطابق اسے ’ایران کی بحری ناکہ بندی‘ اس لیے کہا ہے کیونکہ یہ صرف ایران کے بحری جہازوں یا اُس کے گاہکوں کو آبنائے ہُرمز میں داخل ہونے یا باہر جانے سے روکے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’امریکہ کو آبنائے ہُرمز میں بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر آنے والے تمام اخراجات کی رقم واپسی کی جائے گی، اور اس مقصد کے لیے اس راستے سے گزرنے والے تمام کارگو جہازوں سے 20 فیصد کی شرح سے فیس وصول کی جائے گی۔‘اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے جا رہا ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اب امریکہ معاوضہ وصول کرے گا۔‘پیر کے روز فاکس نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کے محافظ بن جائیں گے۔‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ اب تک اس آبی راستے کی حفاظت ’بغیر کسی معاوضے‘ کے کرتا آرہا ہے، تاہم اب دولت مند ممالک اس کے بدلے امریکہ کو ادائیگی کریں گے۔’ہمیں آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے رقم ملے گی۔ بہت زیادہ رقم۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو خطرے میں ڈال کر ہم جو ذمہ داری نبھا رہے ہیں، اس کا ہمیں معاوضہ دیا جائے۔‘صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکہ اور ایران نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ان حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور مستقل معاہدے کی کوششوں کو شدید دھچکہ لگا ہے، جبکہ اس حالیہ لڑائی کے باعث آبنائے ہُرمز میں بحری جہازوں کی آمدرفت بھی متاثر ہوئی ہے۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہُرمز امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہی ہے، یہ دنیا میں تیل اور گیس کی تجارت کا ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی ایک اہم وجہ ہے۔فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’وہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی طویل بات چیت میں طے شدہ معاملات میں اب تبدیلیاں کرنا چاہ رہے ہیں۔‘جنگ میں شِدت کو روکنے کے لیے قطر، پاکستان اور عمان سے بات چیت کر رہے ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہاس صورتِ حال پر ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’حکومت جنگ میں مزید شدت آنے سے روکنے کے لیے قطر، پاکستان اور عمان کے ثالثوں سے بات چیت کر رہی ہے۔‘دوسری جانب ایران کے طاقتور پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہُرمز بند ہے، جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ آبنائے ہُرمز بحری جہازوں آمدورفت کے لیے کُھلی ہے اور اس پر ایران کا کنٹرول نہیں ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ناکہ بندی دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔‘











فیس بک تبصرے
Facebook Comments Plugin Area