ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار

اہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔ ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔
الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

فیس بک تبصرے

Facebook Comments Plugin Area