زیارت حملہ: ’ہماری گولیاں ختم ہو گئی ہیں، اب دعاؤں میں یاد رکھنا‘، شادی سے آٹھ روز پہلے عطاء اللہ کے ساتھ کیا ہوا؟

کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور زیارت کے علاقے کچھ کے قریب مانگی ڈیم پر شدت پسندوں کے اس حملے میں 30 پولیس اہلکار جان سے گئے، جن میں سے 9 اہل کار پہلے دن موقعے پر ہی مار دیے گئے۔
بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے ورچوم میں چند روز قبل تک ایک گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ دلہے کے کمرے کو سجایا جا رہا تھا، نئے کپڑے سلوائے جا رہے تھے اور رشتہ داروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ سب کو 14 جولائی کا انتظار تھا جب 30 سالہ عطا اللہ کی شادی ہونا تھی۔لیکن شادی سے صرف ایک ہفتے قبل یہ خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ زیارت پولیس میں کانسٹیبل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے عطا اللہ کو ان کے خاندان کے مطابق شادی کی تیاریوں کے لیے لی گئی چھٹیاں ختم کرکے واپس ڈیوٹی پر بلایا گیا جہاں وہ 6 جولائی کو بلوچستان میں ہونے والے حالیہ سب سے مہلک حملوں میں سے ایک کا نشانہ بن گئے۔حکام کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور زیارت کے علاقے کچھ کے قریب مانگی ڈیم فیز تھری واٹر پمپنگ سٹیشن پر شدت پسندوں کے اس حملے میں 30 پولیس اہل کار جان سے گئے۔ ان میں سے 9 اہل کار پہلے دن موقعے پر ہی مار دیے گئے جبکہ 21 اہل کاروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔ مقتول اہل کاروں کی لاشیں بعد میں کوئٹہ اور زیارت کے درمیان واقع زرغون غر کے پہاڑی علاقے سے ملیں۔مقتولین میں سے زیادہ تر کا تعلق زیارت سے ہے۔ واقعے کے بعد زیارت اور کوئٹہ میں سوگ کی فضا ہے۔اس واقعہ میں قتل ہونے والے 9 اہل کاروں کو منگل کو ہی جبکہ  14 اہل کاروں کو جمعرات کو سپردِ خاک کر دیا گیا تاہم 7 اہل کاروں کے لواحقین نے تدفین سے انکار کرتے ہوئے کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک پر میتوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا ہے۔زیارت میں بھی ڈی سی آفس کے سامنے کئی روز سے دھرنا جاری ہے۔ جمعہ کو زیارت میں اس واقعہ کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔لواحقین زیارت واقعہ کی عدالتی تحقیقات، مقتول اہل کاروں کو قتل کیے جانے سے پہلے ان کے محاصرے کے دوران اسلحہ اور مدد کی فراہمی میں ناکامی سمیت غفلت کا مظاہرہ کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی اور  علاقے کو مسلح گروہوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس سے قبل کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں اتوار کو شدت پسندوں کی جانب سے ایک پہاڑی گاؤں ببری پر حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت اور 11 کے اغوا کیے جانے کے خلاف بھی دھرنا دیا جا رہا تھا جو پانچ دنوں بعد مغویوں کی بازیابی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے مذاکرات کے بعد جمعہ کی علی الصبح ختم کردیا گیا۔

فیس بک تبصرے

Facebook Comments Plugin Area