ریکارڈ توڑ گرمی، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اے آئی ڈیٹا سینٹرز فعال رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ ایک نیا اور سنگین چیلنج بھی سامنے آ رہا ہے جس کی بڑی وجہ شدید موسمی حالات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران جہاں شہری ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں نصب طاقتور کمپیوٹر چپس کو فعال رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق حالیہ شدید موسمی حالات نے واضح کر دیا ہے کہ گرمی کی لہریں، سیلاب، تیز ہوائیں اور جنگلاتی آگ جیسے عوامل صرف عام زندگی ہی نہیں بلکہ اہم انفراسٹرکچر، جیسے کارخانوں، جوہری بجلی گھروں اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایئر کنڈیشنرز کے بڑھتے استعمال سے بجلی کے گرڈز پر اضافی دباؤ پڑتا ہے جس سے بلیک آؤٹ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق گزشتہ 3 برسوں کے دوران امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے متعلق انشورنس نقصانات میں شدید موسمی حالات سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اب کمپنی کے تقریباً ایک تہائی نقصانات کا تعلق براہ راست موسمی آفات سے ہے۔نئے ڈیٹا سینٹرز نسبتاً سستی زمین کی دستیابی کی وجہ سے مضافاتی یا دیہی علاقوں میں تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں ماضی میں شدید موسمی حالات کا ریکارڈ محدود تھا۔ تاہم اب ان علاقوں میں اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے موسمی خطرات کی زد میں آسکتے ہیں۔











فیس بک تبصرے
Facebook Comments Plugin Area